طلباء کے چہروں پر عریانیت پھیلانے کے الزامات، AI کے غلط استعمال پر تحقیقاتSociety
N머니투데이
·2026.07.07
1
جنوبی کوریا میں سائبر بدمعاشی (سائبر پُلبُوک) کا ایک نیا اور خطرناک رجحان سر اٹھا رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) کے غلط استعمال سے طلباء و طالبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایک پریشان کن واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک اسکول میں طالبات کے چہروں کو AI ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے عریاں تصاویر پر لگایا گیا اور انہیں پھیلایا گیا۔ اس فعل نے نہ صرف طلباء کی عزت و وقار کو پامال کیا ہے بلکہ ان کے ذہنی سکون کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ یہ واقعات تعلیمی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں، جہاں اس طرح کے سائبر حملوں کو روکنے اور متاثرین کو مدد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ AI ٹولز تک رسائی آسان ہونے کی وجہ سے ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے کی صلاحیت رکھنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
یہ سائبر بدمعاشی (سائبر پُلبُوک) کے واقعات جنوبی کوریا میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں اور رہائشیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ واقعات فی الحال زیادہ تر مقامی طلباء کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن یہ حقیقت کہ AI کا غلط استعمال اس قدر عام ہو گیا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کو، چاہے وہ غیر ملکی ہو یا مقامی، سائبر حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایسے واقعات غیر ملکی خاندانوں میں خاص طور پر تشویش کا باعث بن سکتے ہیں جن کے بچے جنوبی کوریا کے اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ غیر ملکی طلباء، جو پہلے ہی ایک نئے ماحول اور ثقافتی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، سائبر بدمعاشی کے ایسے واقعات سے مزید دباؤ اور تنہائی محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال جنوبی کوریا میں غیر ملکیوں کے لیے محفوظ اور دوستانہ ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی اور تعلیمی اداروں پر اضافی ذمہ داری ڈالتی ہے۔
اس طرح کے سائبر بدمعاشی (سائبر پُلبُوک) سے بچنے اور اس سے نمٹنے کے لیے کچھ عملی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، والدین اور سرپرستوں کو اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے بارے میں تعلیم دینی چاہیے اور انہیں سمجھانا چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی تصاویر یا معلومات کسی نامعلوم شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ دوسرا، اگر کوئی طالب علم یا فرد سائبر بدمعاشی کا شکار ہوتا ہے، تو اسے فوری طور پر اسکول انتظامیہ، والدین یا کسی قابل اعتماد بالغ کو مطلع کرنا چاہیے۔ جنوبی کوریا میں سائبر بدمعاشی سے متعلق شکایات درج کرنے اور قانونی مدد حاصل کرنے کے لیے کئی ادارے موجود ہیں۔ نیشنل انفارمیشن سوسائٹی ایجنسی (این آئی اے) جیسی تنظیمیں سائبر بدمعاشی کے خلاف بیداری پیدا کرنے اور متاثرین کی مدد کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کر رہی ہیں۔ غیر ملکی کمیونٹی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان وسائل سے واقف ہوں اور ضرورت پڑنے پر ان کا استعمال کریں۔ یاد رکھیں، سائبر بدمعاشی ایک سنگین جرم ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
Comment (0)