(한겨레) غیر ملکی رہائشیوں کی بڑھتی تعداد کے باوجود، چوئ مِ اے کی کمیٹی کی توجہ کا فقدانDaily Life
N한겨레
·2026.07.01
355
جنوبی کوریا میں اس وقت ایک اہم موضوع بحث بنا ہوا ہے جس پر ہر کوئی بات کر رہا ہے، اور وہ ہے گیونگگی صوبے میں غیر ملکی رہائشیوں (외국인 주민) کی بڑھتی ہوئی تعداد۔ اس صوبے میں غیر ملکی آبادی دس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ اس کے باوجود، یہ بات باعث تشویش ہے کہ چوئ مِ اے کی کمیٹی، جو صوبائی معاملات کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے، ان غیر ملکی رہائشیوں کو درپیش مسائل اور ضروریات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی۔ ہانگیورے اخبار نے بھی اس مسئلے کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سطح پر اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔
غیر ملکی کارکنوں اور رہائشیوں کے لیے یہ صورتحال کئی لحاظ سے اہم ہے۔ اگر صوبائی انتظامیہ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ضروریات کو نظر انداز کرتی ہے، تو ان کے لیے رہائش، روزگار، صحت کی سہولیات اور سماجی انضمام جیسے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ کچھ علاقوں جیسے گنگوون صوبہ میں غیر ملکی رہائشیوں کے بہتر انضمام کے لیے بہترین مثالیں اور کامیاب منصوبے سامنے آ رہے ہیں، اور BNK گیونگنام بینک جیسی تنظیمیں بھی نوجوانوں اور غیر ملکیوں کے قیام میں مدد کر رہی ہیں، لیکن گیونگگی میں توجہ کی کمی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ غیر ملکی رہائشیوں کی ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کو بھی سراہا جائے، جیسے ہاسونگ سٹی انڈیپینڈنس موومنٹ میموریل ہال میں غیر ملکیوں کے لیے آزادی کے متوالوں کے طور پر ثقافتی دوروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
غیر ملکی کارکنوں اور رہائشیوں کو اس صورتحال سے آگاہ رہنا چاہیے اور اپنی آواز کو مؤثر طریقے سے اٹھانے کے لیے مقامی برادریوں اور تنظیموں سے جڑنا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہوں اور اگر انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہو تو متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔ مقامی غیر سرکاری تنظیمیں (NGOs) اور غیر ملکیوں کے لیے قائم کمیونٹی مراکز اکثر ایسی معلومات اور مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ بھی اہم ہے کہ وہ اپنی زبان اور ثقافت کے ساتھ ساتھ کوریائی زبان اور ثقافت کو بھی سیکھیں تاکہ سماجی انضمام میں آسانی ہو۔ اپنی ضروریات کو صوبائی حکام تک پہنچانے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم بنانا بھی ایک مؤثر قدم ہو سکتا ہے، تاکہ چوئ مِ اے کی کمیٹی اور دیگر حکام ان کی مشکلات پر توجہ دیں اور مناسب پالیسیاں تشکیل دے سکیں۔
Comment (0)